گنگوہ/سہارنپور: جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ میں حفاظ وقراء، علماء اور مفتیان کرام کی دستار بندی کی مناسبت سے منعقد اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث مفتی خالد سیف اللہ قاسمی نے کہا علم وحی کے ذریعہ جب کوئی بات معلوم ہو جائے تو پھر عقل کو دخل نہیں دینا چاہیے،وجہ صاف ہے کہ عقل کی رسائی محدود ہے ۔دوسرے یہ کہ پیغمبر علیہم السلام کے علاوہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں کامل عقل کا حامل نہیں ہوتا ہے۔قرآن کریم اور احادیث شریفہ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و اقوال سبھی وحی کے درجہ میں ہوتے ہیں۔ذہن نشین رہے کہ اس موقع پر ٧ مفتیان کرام ١٤٣ علماء ،٧٦ قراء ٥٣ حفاظ کی دستار بندی ہوئی ہے۔عصری  علوم میں بھی ٢٦ طلبہ نے جونیر ہائی سکول اور ٧٧ نے پرائمری درجات پاس کیے ہیں۔شیخ الحدیث موصوف نے آگے کہا اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات دونوں ہی ابدی ہیں۔کلام بھی اللہ کی ایک صفت ہے،اس لیے قرآن کریم بھی ابدی ہے۔عظمت صحابہ کے تعلق سے بولتے ہوئے مفتی خالد سیف اللہ قاسمی نے امام الحدیث شاہ عبدالعزیز کے حوالہ سے کہاکہ انبیاء کی تنقیص کرنے کی سزا قتل اور صحابہ کرام کی تنقید کی سزا کوڑے ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا بڑی تعداد میں ایسے صحابہ ہیں،جن کو اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت مل گئی تھی۔جملہ صحابہ کرام کے تعلق سے خالق کائنات کا یہ اعلان ہے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔انہوں نے کہا صحابہ کرام کی جماعت ایسی مقدس جماعت تھی کہ اس جیسی جماعت نہ کبھی پہلے پیدا ہوئی اور نہ آئندہ ہونے کا امکان ہے ۔حدیث شریف میں ہے میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں جس کی بھی اقتدا کر لو گے ہدایت پا جاؤ گے۔وہ سچے عاشق تھے۔عشق کی بنیاد پر ہی انہوں نے احکام شرع کی اخلاص کے ساتھ مکمل پابندی کی ہے۔انہوں نے کہا صحابہ کرام ہر محاذ پرسو  فیصد کامیاب رہے ہیں،اس کی بنیادی وجہ اخلاص اور رضائے الہی رہی ہے۔شیخ الحدیث نے حدیث شریف کے حوالہ سے کہا میں اپنے بعد دوچیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اللہ کی کتاب اور اپنی سنت! جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے،تب تک ہر آفت اور مصیبت تم سے دور رہے گی۔شیخ الحدیث موصوف نے بخاری شریف کی متعلقہ حدیث کلمتان حبیبتان الخ کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کی ،نیز عدل وقسط،قسطاس 

،میزان اور حمد و سبحان،اسی طرح حدیث کے راویوں کے تعلق سے مفصل بحث کی اور کہا اس حدیث کا بنیادی مقصد اللہ کی حمد اور تسبیح ہے۔انہوں نے بخاری شریف کے مرتبہ پر بھی روشنی ڈالی اور امام بخاری کی حیات و خدمات کے تعلق سے بھی سیر حاصل بحث کی۔خاص طور پر امام بخاری کے قوت حافظہ کے تعلق سے کئی واقعات پیش کیے ۔انہوں نے اس وقت کے گمراہ کن فرقہ معتزلہ کے اس اعتراض کا مسکت جواب دیا کہ روز محشر اعمال نہیں تولے جائیں گے اور کہا وہاں ایک ایک ذرہ کا وزن ہوگا،حالانکہ اللہ تعالی کو تمام انسانوں کے حالات معلوم ہیں،پھر بھی انصاف اور اطمینان کے لیے ہر آدمی کا نامہ عمل اس کے ہاتھ میں ہوگا۔انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کا بنیادی مقصد توحید اور رسالت کی دعوت کو عام کرنا ہے۔شیخ الحدیث موصوف نے اسلاف محدثین کے تعلق سے امام مالک علیہ الرحمہ کا واقعہ سنایا کہ درس کے دوران بچھو برابر ڈنک مارتا رہا،حدیث شریف کے ادب و احترام کی وجہ سے انہوں نے بچھو کی طرف بالکل بھی دھیان نہیں دیا۔آپ کے چہرہ کا رنگ بدلتا رہا،بعد میں شاگردوں کے دریافت کرنے پر بتایا کہ بچھو کاٹ رہا تھا اور حدیث کے احترام کے سبب میں نے درس کو بند نہیں کیا اور نہ ہی ادھر التفات کیا۔یہ اجلاس جامعہ کے بزرگ محدث مولانا محمد سلمان گنگوہی کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔اس سے پہلے مفتی خالد سیف اللہ قاسمی نے ترجمہ قرآن کریم،گلستان سعدی اور مالا بد منہ فارسی کا آخری درس دیا اور مختصر دعاء کرائی۔اسی دوران جامعہ کے نائب مہتمم قاری عبید الرحمن نے قرآن کریم کی آخری آیتوں کے ساتھ حفاظ کرام کا کلام پاک مکمل کرایا۔اس کا آغاز قاری مشکور احمد رشیدی کی تلاوت اور مولانامحمد صابرقاسمی کی نعت پاک سے ہوا۔اس موقع پر مفتی محمد ساجد کھجناؤری، مفتی محمد احسان قاسمی، مولانااویس الرحمان مولانامحمدادریس ، قاری منورالحسن ،مولانا شمشاداحمد ،مولانا محمد اکرام،مولانا میزان احمد،مولانا ابو الحسن،قاری محمداسلم ، قاری تیمورعالم ، مفتی حسین احمدرشیدی وغیرہ بھی موجود رہے۔


زائرین :
1
1
7
7
2