केंद्रीय बजट से इंफ्रा और रियल स्टेट को बड़ीआस
गंगोह में दस्तारबंदी समारोह: मुफ्ती खालिद सैफुल्लाह कासमी का अहम खिताब
उमरा यात्रा के नाम पर ठगी: पीड़ितों का मेरठ के शख्स को अल्टीमेटम, उठाएंगे कड़े कदम!
इकरा हसन बोली— मुसलमान इंडियंस बाय चॉइस हैं, बाय चांस नहीं
सोनीपत में “पैग़ाम-ए-इंसानियत” कार्यक्रम, इस्लामी शिक्षाओं पर अमल पर ज़ोर
खेल के टिकट की कीमतों का ऐलान
उमरा टूर वाले होंगे बेनकाब, इस दिन का करें इंतजार
नंगलाराई के मदरसे में जलसे का आयोजन
मुफ्ती ए आज़म हिंद मुफ़्ती मोहम्मद किफायतुल्लाह पर दो दिवसीय सेमिनार शुरू
पयाम-ए-इंसानियत
ریاستہائے ہریانہ پنجاب اور ہماچل کی جمعیۃ علماء کے عاملہ کے اجلاس میں ممبر سازی اور صالح سماج کی تشکیل پر زور
پانی پت/موہالی (بلال بجرولوی) مدنی پبلک اسکول بسی عیسی خاں موہالی میں ہریانہ پنجاب ہماچل اور چندی گڑھ کی جمعیۃ علماء کی عاملہ کا متحدہ اجلاس منعقد ہوا۔جس کی صدارت مولانا محمد ہارون قاسمی نے کی۔اس کا آغاز مفتی محمد وسیم قاسمی کی تلاوت اور محمد مسیب کی نعت پاک سے ہوا۔اس موقع پر جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب کے جنرل سیکریٹری مولانا حکیم الدین اشرف اٹاؤڑی نے سابقہ اجلاس کی کارگزاری کی توثیق اور موجودہ اجلاس کے ایجنڈے پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا آج کا بنیادی ایجنڈہ نیک سماج کی تشکیل اور جدید ممبر سازی ہے۔ مضروب عالم دین مولانا محمد ممتاز قاسمی نے کہا جمعیۃ علماء اکابر اسلاف کی تشکیل کردہ تنظیم ہے۔اس کی داغ بیل شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کے دور سے ہی پڑ گئی تھی۔شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی۔مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ دہلوی ۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور مولانا محمد میاں جیسے اہل علم نے اس جماعت کو اپنے خون پسینہ سے سینچا۔فدا ملت مولانا اسعد مدنی رحمت اللہ علیہ نے اس کو پروان چڑھایا۔رواں صورت حال میں جانشین شیخ الاسلام مولانا ارشد مدنی اس کے روح رواں ہیں۔اجلاس کی اسی نشست میں خانقاہ بوڑیا کے سربراہ الحاج پیر جی حافظ حسین احمد قادری مجددی کا پیغام ان کے قاصد مفتی محمد ناصر ایوب ندوی نے پڑھ کر سنایا۔پیغام میں کہا گیا کہ جمعیۃ علماء ایک تاریخ ساز تنظیم ہے۔اس کی ممبر سازی میں اضافہ اس کی ساکھ کو قوی کرنا ہے۔صدارتی خطاب میں مولانا محمد ہارون قاسمی نے کہا اج کی عاملہ کا ایک مقصد نئے ممبر بنانا ہے۔جبکہ دوسرا بنیادی مقصد صالح سماج کی تشکیل ہے۔انہوں نے کہا جس قوم میں اخلاقی گراوٹ آ جاتی ہے۔ وہ نکبت ادبار اور ذلت کا شکار ہونے لگ جاتی ہے۔انہوں نے کہا الحمدللہ اہل اسلام کے پاس تو قرآن کریم کی شکل میں مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔پھر بھی ہم عمل پیرا نہ ہوں تو یہ ہماری ہی غفلت ہے۔جس کا خمیازہ آج پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا نو نہالان ملت کی اصلاح اور ان کی عقائد کی مضبوطی کے لیے تعلیم گاہوں سے بہتر کوئی مرکز نہیں ہے۔تاہم یہ تعلیم گاہیں ہماری اپنی ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا جس طرح قوم میں جہیز نے سرایت کر لی ہے اور نشہ نے جڑ پکڑ لی ہے۔وہ قابل تشویش ہے۔ہمارے ائمہ مساجد کی سمت میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔پہلی نشست میں مولانا محمد عادل قاسمی۔مفتی محمد شرافت مفتاحی۔مفتی خلیل احمد،مولانا لقمان قاسمی ،قاری الیاس، مفتی محمد وسیم قاسمی،مولانا شوکت علی۔مولانا عبدالخالق وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا۔اجلاس کی دوسری نشست میں تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے مجلس منعقد کی گئی۔اس میں مولانا اکمل نے سابقہ کارگزاری و آئندہ امور پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ متحدہ پنجاب میں قادیانت کے پھیلتے جال کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ مولانا ہارون قاسمی کی دعاء پر یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔