یمنانگر (بذریعہ مفتی محمد ناصر ایوب ندوی)
فیض العلوم خانقاہ بوڑیہ کی مسجد جامع عبدالکریم کے ممبر سے ہفتہ واری خطاب کرتے ہوئے ادارہ کے روح رواں و رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ہجری مہینہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ چل رہا ہے جو بڑی فضیلت کا حامل عشرہ ہے۔ ان ایام کو فضلیت والے ایام کہا گیا ہے کیونکہ ان ہی ایام میں یوم عرفہ جو حج کا اہم ترین دن ہے، ایام قربانی،نماز عیدالاضحیٰ اور ایام تشریق ہیں یعنی 9 ذی الحجہ کی فجر کی نماز سے 13 ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد مرد حضرات کے لئے بلند آواز سے اور عورتوں کے لئے تکبیرات تشریق آہستہ سے پڑھنا واجب ہے،
حضرت پیر صاحب نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر امام صاحب پڑھنا بھول جائیں تو مقتدی حضرات بلند آواز سے پڑھیں اور اس بات کو اختلاف کا ذریعہ نہ بنائیں کہ امام نے کیوں نہیں پڑھی؟ حالانکہ امام بھی انسان ہے بھول ہوسکتی ہے آپ نے بیان جاری رکھے ہوئے مزید فرمایا
ان ایام میں نیک اعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور ان دنوں کی عبادت کی بہت زیادہ فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، چاہے یہ عبادات ذکر و اذکار کی صورت میں ہوں، یا قیام اللیل کی صورت میں یا روزوں کی صورت میں بہر صورت اللہ کے نزدیک حد درجہ پسندیدہ اور باعث اجر و ثواب ہیں،احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی ایام میں ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اجر رکھتا ہے، اور بطورِ خاص یومِ عرفہ (9 ذی الحجہ)کے روزے کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اس دن کا روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ ہے۔حضرت پیر صاحب نے فرمایا کہ صاحب نصاب شخص پر قربانی واجب ہے اور قربانی وہ نیک عمل ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتاہے اللہ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے اور قربانی کرنے والے کو دنیا وآخرت کی بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں۔یہ عمل جتنا عظیم الشان ہے اتنا ہی احتیاط کا متقاضی ہے ایک طرف ہم یہ عبادت کرکے اللہ کا تقرب حاصل کررہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف اپنے پڑوسی کو تکلیف پہونچا رہے ہوتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہم ممنوعہ جانوروں کی قربانی ہر گز نہ کریں اور جن جانوروں کی قربانی کی جاسکتی ہے ان کو بھی صفائی ستھرائی اور پردہ کے ساتھ کریں اس سلسلہ میں حکومت کی گائیڈ لائن بہت مفید ہوتی ہے اس کا پالن کرنا ضروری ہے حضرت پیر صاحب نے آخر میں فرمایا کہ 17 جون کو نماز عید الاضحیٰ ادا کی جائے گی۔