केंद्रीय बजट से इंफ्रा और रियल स्टेट को बड़ीआस
गंगोह में दस्तारबंदी समारोह: मुफ्ती खालिद सैफुल्लाह कासमी का अहम खिताब
उमरा यात्रा के नाम पर ठगी: पीड़ितों का मेरठ के शख्स को अल्टीमेटम, उठाएंगे कड़े कदम!
इकरा हसन बोली— मुसलमान इंडियंस बाय चॉइस हैं, बाय चांस नहीं
सोनीपत में “पैग़ाम-ए-इंसानियत” कार्यक्रम, इस्लामी शिक्षाओं पर अमल पर ज़ोर
खेल के टिकट की कीमतों का ऐलान
उमरा टूर वाले होंगे बेनकाब, इस दिन का करें इंतजार
नंगलाराई के मदरसे में जलसे का आयोजन
मुफ्ती ए आज़म हिंद मुफ़्ती मोहम्मद किफायतुल्लाह पर दो दिवसीय सेमिनार शुरू
पयाम-ए-इंसानियत
شاملی(صہیب قاسمی) قصبہ کاندھلہ کی نئی بستی میں واقع مدرسہ اسعدیہ گلزار مظفر میں اصلاح معاشرہ اور ذکر اللہ کے عنوان سے منعقد اجلاس عام کا آغاز فلاح دارین الاسلامیہ بلاسپور کے استاد قاری نعمان قاسمی حبیب پوری کی تلاوت اور مفتی اکرام فیاضی کی نعت نبی سے ہوا ۔ نظامت مولانامحمد مستقیم نے کی ۔اس موقع پر مفتی عبدالسمیع نے کہا کہ اہل اسلام کو صالح سماج کی تشکیل کے لیے اغیار کی تہذیب تمدن اور ثقافت کے سہارا لینے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔فرزندان توحید کے پاس قرآن کریم ہے اور سیرت نبوی ہے۔انہوں نے کہا قرآن مجید بنی نوع انسان کے لیے ضابطہ حیات۔ راہ ہدایت اور مشعل راہ ہے۔اس کا عملی نمونہ نبوی سیرت ہے۔انہوں نے کہا نیک سماج کا مطلب یہ ہوتا ہے جہاں خالق کی عبادت ہوتی ہو۔رسول کی رسالت پر یقین کامل ہو۔لوگ سچ بولتے ہوں جھوٹ سے پرہیز ہو۔ وعدہ خلافی سے گریزاں ہوں اور امانت میں خیانت نہ کرتے ہوں۔ساتھ ہی لوگ افعال منہیہ سے بچتے ہوں۔یعنی جس کام کے کرنے سے ہادی عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہواس کو نہ کرتے ہوں۔انہوں نے کہا جس سماج میں یہ بنیادی جوہر پائے جاتے ہوں۔ سمجھو ۔وہ نیک سماج ہے۔یہ بنیادی اقدار جس درجہ پائی جائیں گی۔ اسی درجہ سماج ترقی یافتہ ہوگا۔ مولانا الیاس کیرانوی نے کہا روز اول سے ہی اس دنیا میں صحیح اور غلط کا تصور پایا جاتا ہے۔ہابیل اور قابیل کے وقت سے ہی نیک و بد کی اصطلاحیں رائج ہیں۔کامیاب وہ لوگ ہیں جن کی زندگی خالق کائنات کے بتائے راستہ کے مطابق ہو۔
شاعر اسلام مولانا قاری احسان محسن قاسمی نے کہا خطاب کے شروع میں مختلف موضوعات پر منظوم کلام پیش کیا۔بعد ازاں نماز اور زکوۃ کے تعلق سے تفصیلی خطاب کیا۔انہوں نے کہا حدیث شریف میں نماز کو مومن کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ایک حدیث میں نماز کو نبی علیہ السلام کی آنکھوں کی ٹھنڈک بتایا گیا ہے۔المیہ یہ ہے کہ مسلم قوم مجموعی حیثیت سے پنج وقتہ نماز سے غافل ہے ۔اجلاس کے روح رواں خلیفہ مجاز مولانا محمد مستقیم نے اللہ کے ذکر کی فضیلت کے حوالہ سے کہا اللہ تعالی کو یاد کرنے سے روحانی بالیدگی حاصل ہو جاتی ہے۔بار بار تذکرہ خداوندی سے تزکیہ قلب اور تطہیر نفس ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا اللہ کا ذکر زنگ آلود قلوب کے لیے تریاق کی حیثیت رکھتا ہے۔قاری محمد راشد نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
شرکاء میں مولانا محمد عرفان ۔ مولانا محمد ساجد ۔ قاری عطا اللہ۔حافظ محمود جھنجھانوی ۔قاری سفیان کاندھلوی۔قاری خالد ۔شاہ دین پردھان وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔