شاملی (صہیب قاسمی )اسلام دین فطرت ہے ،اس لحاظ سے اللہ کا آخری دین محض عقائد و عبادات کے مجموعہ کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل اور جامع نظام حیات ہے۔ اس میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے ابدی ہدایات اور احکام موجود ہیں۔انہوں نے کہا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے درختوں کے مختلف ذائقوں کو اپنی نشانی قرار دیا ہے۔ محسن انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ شجر کاری کو فروغ دینے کے لئے ایمان والوں پر شجر کاری کو صدقہ قرار دیا ہے ۔مفتی موصوف نے بخاری شریف کے حوالہ سے کہا جو مسلمان دَرخت لگائے یا فَصل بوئے ،پھر اس میں سے جو پرندہ یا اِنسان یا چوپایا کھائے تو وہ اس کی طرف سے صَدقہ شُمار ہو گا ۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ اس عمل کو قیامت تک جاری رکھنے کا حکم فرمایا۔ارشادِ نبویؐ ہے ۔اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اسے لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو۔انہوں نے کہا درخت ماحول کو درست رکھنے اور خوب صورتی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ہمیں صاف ہوا فراہم کرتے ہیں۔ طوفانوں کا زور کم کرتے ہیں۔ زمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں، آب و ہوا کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں اورآ کسیجن فراہم کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں ۔ ان کی دیکھ بھال کی جائے اور آنے والی نسل کو بھی شجرکاری کے فوائد اور اہمیت سے واقف کرایا جائے اور نسل انسانی کے دائمی تحفظ کے لئے نہ صرف ایک دن بلکہ پورا سال شجر کاری مہم کا دور رکھا جائے۔قبل ازیں مفتی موصوف نے مسجد قریشیان کے مکتب کے بچوں کے ساتھ باہر چوراہے پر پیٹ پودے لگائے گئے۔