فضائی حملے میں تین صحافی ہلاک

فضائی حملے میں تین  صحافی ہلاک

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملے میں تین فلسطینی صحافی جاں بحق ہو گئے، جن میں امریکی ٹی وی نیٹ ورک "سی بی ایس" (CBS) کے لیے کام کرنے والا ایک فوٹو گرافر بھی شامل ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جن افراد کو نشانہ بنایا گیا وہ حماس تنظیم کا ایک ڈرون طیارہ اڑا رہے تھے۔

یہ فضائی حملہ بدھ کے روز اس وقت ہوا جب تینوں صحافی غزہ شہر کے مضافاتی قصبے الزہراء میں ایک گاڑی میں سوار تھے۔ رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں فوٹو گرافر عبدالرؤوف شعت شامل ہیں، جو کئی برسوں سے CBS کے ساتھ منسلک تھے اور فرانسیسی خبر رساں ادارے (AFP) کے لیے بھی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ امریکی نیٹ ورک نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ شعت کی شادی ان کی موت سے محض دو ہفتے قبل ہوئی تھی۔ شعت کے علاوہ جاں بحق ہونے والے دیگر دو صحافیوں کی شناخت محمد صلاح قشطہ اور انس غانم کے نام سے ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے "متعدد مشتبہ افراد کو ایک ڈرون طیارہ اڑاتے ہوئے دیکھا جو اس کی افواج کے لیے خطرہ بن رہا تھا"۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ان کے خلاف "درست نشانہ" لگایا اور مزید کہا کہ واقعے کی تفصیلات کا تا حال جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس کے برعکس فلسطینی میڈیا اور مصری ریلیف کمیٹی کے سربراہ محمد منصور نے اسرائیلی موقف کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صحافی کمیٹی کی جانب سے امداد کی تقسیم کے نئے عمل کی تصاویر لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ منصور نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی فوج کو پہلے سے علم تھا کہ نشانہ بنائی گئی گاڑی ریلیف کمیٹی کی ملکیت ہے۔

واقعہ کے مقام سے موصول ہونے والی وڈیوز میں سڑک کنارے گاڑی کا جلا ہوا ملبہ اور اس سے اٹھتا ہوا دھواں دیکھا جا سکتا ہے۔ لندن میں CBS کے پروڈیوسر کمال افضلی نے اپنے مقتول ساتھی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کام "ناقابلِ تصور حالات میں فنی مہارت" کا شاہکار تھا، اور وہ "بے پناہ دکھوں کے عینی شاہد تھے جنہیں دستاویز کرنے کی وہ غیر معمولی طاقت رکھتے تھے"

Visitors :
1
1
8
3
6