علاقائی خبریں

  • سپاہی اور اہلیہ کے درمیان ہاتھا پائی

    سپاہی اور اہلیہ کے درمیان ہاتھا پائی

    سپاہی اور اہلیہ کے درمیان ہاتھا پائی ۔عدالت میں ہی ہنگامہ 
     شاملی(یوپی) گھریلو تشدد کے ایک معاملہ میں سماعت کے لیے عدالت میں آنے والی بیوی اور اس کے شوہر،جو پولیس میں کانسٹیبل ہے، کے درمیان لڑائی ہو گئی۔  ان کے درمیان  ہاتھا پائی ہوئی۔  موقع پر کہرام مچ گیا۔  اس معاملہ میں متاثرہ نے پولیس تھانہ میں شکایت درج کرائی ہے جس میں اس کے شوہر سمیت تین لوگوں پر حملہ کا الزام لگایا گیا ہے۔ضلع کے گڑھی پُختہ تھانہ علاقہ کے ایک گاؤں کی رہنے والی ایک خاتون کا اپنے شوہر کے ساتھ گھریلو تشدد، مارپیٹ اور اخراجات کے حوالہ سے مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔  جمعرات کو عدالت کی تاریخ ہونے کی وجہ سے دونوں میاں بیوی عدالت آئے تھے۔  بتایا جاتا ہے کہ شوہر غازی آباد میں اتر پردیش پولیس میں کانسٹیبل کے عہدہ پر تعینات ہے۔  بتایا جاتا ہے کہ عدالت میں میاں بیوی کے درمیان پھر جھگڑا ہوا۔  اس کے بعد ان کے درمیان کافی جھگڑا ہوا اور بات لڑائی تک جا پہنچی۔  جس کی وجہ سے عدالت کے احاطہ میں ہنگامہ مچ گیا۔  عدالت میں آنے والے وکلاء اور مدعیان کی بھیڑ وہاں جمع ہو گئی۔  بعد میں شوہر وہاں سے چلا گیا۔  اطلاع ملنے پر خاتون کانسٹیبل بھی موقع پر پہنچ گئی اور خاتون سے معلومات حاصل کیں۔  دوسری جانب متاثرہ نے تھانہ میں شکایت درج کرائی ہے۔   الزام ہے کہ شوہر نے اپنے دو نامعلوم ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کا پیچھا کیا۔  اس کے بعد اس کا منہ ڈھانپ دیا گیا اور اسے زمین پر گھسیٹا گیا۔ بعد میں اسے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔  متاثرہ نے پولیس سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
     

خصوصی خبریں

  • یو جی سی کیا ہے

    یو جی سی کیا ہے

    یو جی سی کا پورا نام ہے یونیورسٹی گراٹ کمیشن۔یہ بھارت سرکار کے تحت ایک ادارہ ہے۔جو ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کا مالی تعاون بھی کرتا ہے۔اس ادارے نے ہی نیا قانون لاگو کیا ہے،جس کا مطلب یہ ہے او بی سی ایس سی ایس  ٹی یعنی پسماندہ طلبہ اگر غلط اور نازیبا سلوک کی شکایت کرتے ہیں شکایت کرتے ہیں،تو شکایت کو دور کرنے کے لیے ہر کالج اور یونیورسٹی کو ایک کمیٹی تشکیل دینی ہوگی۔اس کمیٹی میں دلت اور او بی سی کے لوگ بھی ہوں گے۔اس کے فیصلے کے مطابق ہی آگے کارروائی ہوگی۔اگر کسی کالج یا یونیورسٹی نے یہ کمیٹی تشکیل نہیں دی تو اس کی منظوری رد ہو سکتی ہے یا اس کی مالی امداد بند ہو سکتی ہے۔اس میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ شکایت کرنے پر۔جس کے خلاف شکایت کی گئی ہے اسی کو ثابت کرنا ہوگا کہ میں نہ کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔اس لیے اعلی ذات کے لوگ اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔دوسری طرف دلتوں نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ اگر یہ قانون واپس لیا تو سڑکوں پر آجائیں گے۔
     یو جی سی کا آج احتجاج: یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف ملک بھر میں احتجاج پھیل گیا ہے۔ 28 جنوری 2026 کو پریاگ راج، لکھنؤ اور دہلی جیسے بڑے شہروں میں زبردست احتجاج دیکھنے میں آیا۔ طلباء اور وکلاء سڑکوں پر نکل آئے اور یو جی سی کے اعلی تعلیمی اداروں کے ضوابط 2026 میں ایکویٹی کے فروغ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ ضابطے جنرل زمرے کے طلباء کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی سے لے کر لکھنؤ اسٹوڈنٹ کونسل تک سبھی ناراض ہیں۔ سپریم کورٹ اب اس معاملے میں مداخلت کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس درخواست کی جلد سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت اور وزیر تعلیم نے امن کی اپیل کی ہے، لیکن زمینی غصہ کم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ یہ سارا تنازعہ 13 جنوری کو نئے ضابطے جاری ہونے کے بعد شروع ہوا۔
    ملک میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق یو جی سی کے نئے ضوابط (یو جی سی ایکٹ 2026) کا معاملہ گرم ہے۔ UGC نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کو روکنے کے لیے سخت دفعات کے ساتھ نئے ضابطے متعارف کرائے ہیں۔ ان دفعات کے اثرات کے بارے میں ماہرین تعلیم، طلباء، سماجی تنظیموں اور سیاست دانوں میں مختلف آراء ہیں۔ اس قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔سپریم کورٹ میں اس معاملے کی کل سماعت ہو سکتی ہے۔
    ایسی صورتحال میں یہ سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ یو جی سی کیا ہے۔ یہ کب اور کیوں بنی؟ اس کا کردار کیا ہے؟ اور نیا ضابطہ تنازعہ کیوں پیدا کر رہا ہے؟ کیونکہ ملک کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل براہ راست یو جی سی کے فیصلوں سے جڑا ہوا ہے۔
    یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی)، جسے ہندی میں وشو ودیالیہ گرانٹس آیوگ بھی کہا جاتا ہے، حکومت ہند کی وزارت تعلیم کے تحت ایک قانونی ادارہ ہے۔ UGC کا بنیادی کام ملک میں یونیورسٹی کی تعلیم کے معیار کو منظم کرنا، مربوط کرنا اور برقرار رکھنا ہے۔کمیشن یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تدریس، امتحان اور تحقیق کے معیارات طے کرتا ہے۔ یہ اہل اعلیٰ تعلیمی اداروں کو گرانٹ دینے کا بھی ذمہ دار ہے۔ مزید برآں، UGC اعلیٰ تعلیم کی ترقی سے متعلق مسائل پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیتا ہے۔
    یو جی سی کب قائم ہوا؟ (یو جی سی ہندی میں)
    ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کی ایک طویل روایت ہے۔ نالندہ، تکشیلا اور وکرم شیلا جیسی قدیم یونیورسٹیوں میں ایشیا بھر سے طلباء پڑھنے آتے تھے۔ انگریز دور میں بھی تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ایلفنسٹن، میکاؤلے اور ووڈ جیسے حکام نے جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی۔ ہندوستان میں ایک مرکزی اعلیٰ تعلیم کے ریگولیٹری ادارے کی ضرورت آزادی سے پہلے ہی محسوس کی گئی تھی۔یو جی سی کے نئے قوانین کی مخالفت میں کیا وجہ ہے؟
    اس نئے قانون کے خلاف کئی ریاستوں میں مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ دہلی، اتر پردیش، بہار اور راجستھان سمیت ملک کے کئی حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بریلی کے اے ڈی ایم الانکر اگنی ہوتری کے استعفیٰ نے اس معاملے کو مزید روشنی میں لایا۔
    احتجاج کرنے والوں کے اہم اعتراضات:
    شکایت کے لیے ٹھوس ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔
    ایک بار الزام لگنے کے بعد، ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی ہے۔
    اصول کا دائرہ صرف طلباء تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں اساتذہ اور عملہ بھی شامل ہے۔
    عام زمرے کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔
    کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس اصول کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
    یو جی سی کا آج احتجاج: یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف ملک بھر میں احتجاج پھیل گیا ہے۔ 28 جنوری 2026 کو پریاگ راج، لکھنؤ اور دہلی جیسے بڑے شہروں میں زبردست احتجاج دیکھنے میں آیا۔ طلباء اور وکلاء سڑکوں پر نکل آئے اور یو جی سی کے اعلی تعلیمی اداروں کے ضوابط 2026 میں ایکویٹی کے فروغ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ ضابطے جنرل زمرے کے طلباء کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی سے لے کر لکھنؤ اسٹوڈنٹ کونسل تک سبھی ناراض ہیں۔ سپریم کورٹ اب اس معاملے میں مداخلت کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس درخواست کی جلد سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت اور وزیر تعلیم نے امن کی اپیل کی ہے، لیکن زمینی غصہ کم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ یہ سارا تنازعہ 13 جنوری کو نئے ضابطے جاری ہونے کے بعد شروع ہوا۔
     ملک میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق یو جی سی کے نئے ضوابط (یو جی سی ایکٹ 2026) کا معاملہ گرم ہے۔ UGC نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کو روکنے کے لیے سخت دفعات کے ساتھ نئے ضابطے متعارف کرائے ہیں۔ ان دفعات کے اثرات کے بارے میں ماہرین تعلیم، طلباء، سماجی تنظیموں اور سیاست دانوں میں مختلف آراء ہیں۔ اس قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔

    ایسی صورتحال میں یہ سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ یو جی سی کیا ہے۔ یہ کب اور کیوں بنی؟ اس کا کردار کیا ہے؟ اور نیا ضابطہ تنازعہ کیوں پیدا کر رہا ہے؟ کیونکہ ملک کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل براہ راست یو جی سی کے فیصلوں سے جڑا ہوا ہے۔
     یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی)، جسے ہندی میں وشو ودیالیہ گرانٹس آیوگ بھی کہا جاتا ہے، حکومت ہند کی وزارت تعلیم کے تحت ایک قانونی ادارہ ہے۔ UGC کا بنیادی کام ملک میں یونیورسٹی کی تعلیم کے معیار کو منظم کرنا، مربوط کرنا اور برقرار رکھنا ہے۔
    کمیشن یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تدریس، امتحان اور تحقیق کے معیارات طے کرتا ہے۔ یہ اہل اعلیٰ تعلیمی اداروں کو گرانٹ دینے کا بھی ذمہ دار ہے۔ مزید برآں، UGC اعلیٰ تعلیم کی ترقی سے متعلق مسائل پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیتا ہے۔
    یو جی سی کب قائم ہوا؟ (یو جی سی ہندی میں)
    ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کی ایک طویل روایت ہے۔ نالندہ، تکشیلا اور وکرم شیلا جیسی قدیم یونیورسٹیوں میں ایشیا بھر سے طلباء پڑھنے آتے تھے۔ انگریز دور میں بھی تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ایلفنسٹن، میکاؤلے اور ووڈ جیسے حکام نے جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی۔ ہندوستان میں ایک مرکزی اعلیٰ تعلیم کے ریگولیٹری ادارے کی ضرورت آزادی سے پہلے ہی محسوس کی گئی تھی۔

    یو جی سی کے نئے قوانین کی مخالفت میں کیا وجہ ہے؟
    اس نئے قانون کے خلاف کئی ریاستوں میں مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ دہلی، اتر پردیش، بہار اور راجستھان سمیت ملک کے کئی حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بریلی کے اے ڈی ایم الانکر اگنی ہوتری کے استعفیٰ نے اس معاملے کو مزید روشنی میں لایا۔
    احتجاج کرنے والوں کے اہم اعتراضات:
    شکایت کے لیے ٹھوس ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔
    ایک بار الزام لگنے کے بعد، ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی ہے۔
    اصول کا دائرہ صرف طلباء تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں اساتذہ اور عملہ بھی شامل ہے۔
    عام زمرے کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔
    کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس اصول کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔یو جی سی کا آج احتجاج: یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف ملک بھر میں احتجاج پھیل گیا ہے۔ 28 جنوری 2026 کو پریاگ راج، لکھنؤ اور دہلی جیسے بڑے شہروں میں زبردست احتجاج دیکھنے میں آیا۔ طلباء اور وکلاء سڑکوں پر نکل آئے اور یو جی سی کے اعلی تعلیمی اداروں کے ضوابط 2026 میں ایکویٹی کے فروغ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ ضابطے جنرل زمرے کے طلباء کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی سے لے کر لکھنؤ اسٹوڈنٹ کونسل تک سبھی ناراض ہیں۔ سپریم کورٹ اب اس معاملے میں مداخلت کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس درخواست کی جلد سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت اور وزیر تعلیم نے امن کی اپیل کی ہے، لیکن زمینی غصہ کم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ یہ سارا تنازعہ 13 جنوری کو نئے ضابطے جاری ہونے کے بعد شروع ہوا۔
     ملک میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق یو جی سی کے نئے ضوابط (یو جی سی ایکٹ 2026) کا معاملہ گرم ہے۔ UGC نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کو روکنے کے لیے سخت دفعات کے ساتھ نئے ضابطے متعارف کرائے ہیں۔ ان دفعات کے اثرات کے بارے میں ماہرین تعلیم، طلباء، سماجی تنظیموں اور سیاست دانوں میں مختلف آراء ہیں۔ اس قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔

    ایسی صورتحال میں یہ سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ یو جی سی کیا ہے۔ یہ کب اور کیوں بنی؟ اس کا کردار کیا ہے؟ اور نیا ضابطہ تنازعہ کیوں پیدا کر رہا ہے؟ کیونکہ ملک کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل براہ راست یو جی سی کے فیصلوں سے جڑا ہوا ہے۔
     یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی)، جسے ہندی میں وشو ودیالیہ گرانٹس آیوگ بھی کہا جاتا ہے، حکومت ہند کی وزارت تعلیم کے تحت ایک قانونی ادارہ ہے۔ UGC کا بنیادی کام ملک میں یونیورسٹی کی تعلیم کے معیار کو منظم کرنا، مربوط کرنا اور برقرار رکھنا ہے۔
    کمیشن یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تدریس، امتحان اور تحقیق کے معیارات طے کرتا ہے۔ یہ اہل اعلیٰ تعلیمی اداروں کو گرانٹ دینے کا بھی ذمہ دار ہے۔ مزید برآں، UGC اعلیٰ تعلیم کی ترقی سے متعلق مسائل پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیتا ہے۔
    یو جی سی کب قائم ہوا؟ (یو جی سی ہندی میں)
    ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کی ایک طویل روایت ہے۔ نالندہ، تکشیلا اور وکرم شیلا جیسی قدیم یونیورسٹیوں میں ایشیا بھر سے طلباء پڑھنے آتے تھے۔ انگریز دور میں بھی تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ایلفنسٹن، میکاؤلے اور ووڈ جیسے حکام نے جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی۔ ہندوستان میں ایک مرکزی اعلیٰ تعلیم کے ریگولیٹری ادارے کی ضرورت آزادی سے پہلے ہی محسوس کی گئی تھی۔

    یو جی سی کے نئے قوانین کی مخالفت میں کیا وجہ ہے؟
    اس نئے قانون کے خلاف کئی ریاستوں میں مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ دہلی، اتر پردیش، بہار اور راجستھان سمیت ملک کے کئی حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بریلی کے اے ڈی ایم الانکر اگنی ہوتری کے استعفیٰ نے اس معاملے کو مزید روشنی میں لایا۔
    احتجاج کرنے والوں کے اہم اعتراضات:
    شکایت کے لیے ٹھوس ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔
    ایک بار الزام لگنے کے بعد، ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی ہے۔
    اصول کا دائرہ صرف طلباء تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں اساتذہ اور عملہ بھی شامل ہے۔
    عام زمرے کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔
    کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس اصول کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔

عالم اسلام

  • گنگوہ/سہارنپور: جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ میں حفاظ وقراء، علماء اور مفتیان کرام کی دستار بندی کی مناسبت سے منعقد اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث مفتی خالد سیف اللہ قاسمی نے کہا علم وحی کے ذریعہ جب کوئی بات معلوم ہو جائے تو پھر عقل کو دخل نہیں دینا چاہیے،وجہ صاف ہے کہ عقل کی رسائی محدود ہے ۔دوسرے یہ کہ پیغمبر علیہم السلام کے علاوہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں کامل عقل کا حامل نہیں ہوتا ہے۔قرآن کریم اور احادیث شریفہ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و اقوال سبھی وحی کے درجہ میں ہوتے ہیں۔ذہن نشین رہے کہ اس موقع پر ٧ مفتیان کرام ١٤٣ علماء ،٧٦ قراء ٥٣ حفاظ کی دستار بندی ہوئی ہے۔عصری  علوم میں بھی ٢٦ طلبہ نے جونیر ہائی سکول اور ٧٧ نے پرائمری درجات پاس کیے ہیں۔شیخ الحدیث موصوف نے آگے کہا اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات دونوں ہی ابدی ہیں۔کلام بھی اللہ کی ایک صفت ہے،اس لیے قرآن کریم بھی ابدی ہے۔عظمت صحابہ کے تعلق سے بولتے ہوئے مفتی خالد سیف اللہ قاسمی نے امام الحدیث شاہ عبدالعزیز کے حوالہ سے کہاکہ انبیاء کی تنقیص کرنے کی سزا قتل اور صحابہ کرام کی تنقید کی سزا کوڑے ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا بڑی تعداد میں ایسے صحابہ ہیں،جن کو اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت مل گئی تھی۔جملہ صحابہ کرام کے تعلق سے خالق کائنات کا یہ اعلان ہے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔انہوں نے کہا صحابہ کرام کی جماعت ایسی مقدس جماعت تھی کہ اس جیسی جماعت نہ کبھی پہلے پیدا ہوئی اور نہ آئندہ ہونے کا امکان ہے ۔حدیث شریف میں ہے میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں جس کی بھی اقتدا کر لو گے ہدایت پا جاؤ گے۔وہ سچے عاشق تھے۔عشق کی بنیاد پر ہی انہوں نے احکام شرع کی اخلاص کے ساتھ مکمل پابندی کی ہے۔انہوں نے کہا صحابہ کرام ہر محاذ پرسو  فیصد کامیاب رہے ہیں،اس کی بنیادی وجہ اخلاص اور رضائے الہی رہی ہے۔شیخ الحدیث نے حدیث شریف کے حوالہ سے کہا میں اپنے بعد دوچیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اللہ کی کتاب اور اپنی سنت! جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے،تب تک ہر آفت اور مصیبت تم سے دور رہے گی۔شیخ الحدیث موصوف نے بخاری شریف کی متعلقہ حدیث کلمتان حبیبتان الخ کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کی ،نیز عدل وقسط،قسطاس 

    ،میزان اور حمد و سبحان،اسی طرح حدیث کے راویوں کے تعلق سے مفصل بحث کی اور کہا اس حدیث کا بنیادی مقصد اللہ کی حمد اور تسبیح ہے۔انہوں نے بخاری شریف کے مرتبہ پر بھی روشنی ڈالی اور امام بخاری کی حیات و خدمات کے تعلق سے بھی سیر حاصل بحث کی۔خاص طور پر امام بخاری کے قوت حافظہ کے تعلق سے کئی واقعات پیش کیے ۔انہوں نے اس وقت کے گمراہ کن فرقہ معتزلہ کے اس اعتراض کا مسکت جواب دیا کہ روز محشر اعمال نہیں تولے جائیں گے اور کہا وہاں ایک ایک ذرہ کا وزن ہوگا،حالانکہ اللہ تعالی کو تمام انسانوں کے حالات معلوم ہیں،پھر بھی انصاف اور اطمینان کے لیے ہر آدمی کا نامہ عمل اس کے ہاتھ میں ہوگا۔انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کا بنیادی مقصد توحید اور رسالت کی دعوت کو عام کرنا ہے۔شیخ الحدیث موصوف نے اسلاف محدثین کے تعلق سے امام مالک علیہ الرحمہ کا واقعہ سنایا کہ درس کے دوران بچھو برابر ڈنک مارتا رہا،حدیث شریف کے ادب و احترام کی وجہ سے انہوں نے بچھو کی طرف بالکل بھی دھیان نہیں دیا۔آپ کے چہرہ کا رنگ بدلتا رہا،بعد میں شاگردوں کے دریافت کرنے پر بتایا کہ بچھو کاٹ رہا تھا اور حدیث کے احترام کے سبب میں نے درس کو بند نہیں کیا اور نہ ہی ادھر التفات کیا۔یہ اجلاس جامعہ کے بزرگ محدث مولانا محمد سلمان گنگوہی کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔اس سے پہلے مفتی خالد سیف اللہ قاسمی نے ترجمہ قرآن کریم،گلستان سعدی اور مالا بد منہ فارسی کا آخری درس دیا اور مختصر دعاء کرائی۔اسی دوران جامعہ کے نائب مہتمم قاری عبید الرحمن نے قرآن کریم کی آخری آیتوں کے ساتھ حفاظ کرام کا کلام پاک مکمل کرایا۔اس کا آغاز قاری مشکور احمد رشیدی کی تلاوت اور مولانامحمد صابرقاسمی کی نعت پاک سے ہوا۔اس موقع پر مفتی محمد ساجد کھجناؤری، مفتی محمد احسان قاسمی، مولانااویس الرحمان مولانامحمدادریس ، قاری منورالحسن ،مولانا شمشاداحمد ،مولانا محمد اکرام،مولانا میزان احمد،مولانا ابو الحسن،قاری محمداسلم ، قاری تیمورعالم ، مفتی حسین احمدرشیدی وغیرہ بھی موجود رہے۔


ویڈیوز

فقہ وفتاوی

زائرین :
8
2
0
9